ابنا: مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے دفتر الحجتہ ہاوس سے جاری بیان کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی نے ویٹرنری ڈاکٹر نور علی قزلباش کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، بلکہ بعض حکومتی حلقے تو دہشتگردوں کی سرپرستی بھی کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ شہر شدید بدامنی کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کو دہشتگردوں کے بارے میں مکمل معلومات ہیں، لیکن پھر بھی حکومت ان اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار دہشتگردوں کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کر رہی، جو کہ ایک بڑا المیہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کوئٹہ شہر کے امن اور بھائی چارے کی فضاء کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، کیونکہ موجودہ حکومت لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنی تاریخی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن میں مصروف عمل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو دہشتگردوں، اغواء کاروں اور لٹیروں سمیت دیگر جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ کوئٹہ کے عوام خصوصاً ملت تشیع کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کو مدنظر رکھ کر بلوچستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ملکر کوئٹہ شہر میں بھائی چارے کی فضاء اور امن کی خاطر کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ روز بروز نفرتیں پھیلانے کی سازشیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین صوبائی حکومت سے سختی سے مطالبہ کرتی ہے کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوری طور پر آپریشن کرکے ان کا خاتمہ کیا جائے اور پاکستان کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔
.......
/169